واشنگٹن ڈی سی سے ریاست نارتھ ڈکوٹا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "ایران کی جوہری صلاحیت کے خاتمے کا عمل بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہماری بہت مثبت ملاقاتیں ہوئی ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ صورتحال کس سمت جاتی ہے۔"
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے پرامید ہیں، اگرچہ بعض چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
امریکی حکام اس وقت اصولی طور پر طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کو اپنی اولین ترجیح قرار دے رہے ہیں، تاکہ سیاسی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔
🇺🇸Trump :"We hit them very hard for three nights, but we re getting along very well now." pic.twitter.com/MBBAOfolcZ
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) July 1, 2026
اس سلسلے میں زیرِ غور اہم امور میں تجارتی بحری آمدورفت کی بحالی، ایران کے اثاثوں کی حیثیت سے متعلق معاملات کا حل، اور ایسے کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا شامل ہے جو دونوں ممالک کے درمیان جاری وسیع تر امن عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔





