بین الاقوامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے معاہدے کے امکانات بدستور روشن ہیں، امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق تمام اہم فیصلے وہ خود کرتے ہیں اور اس حوالے سے حتمی اختیار ان کے پاس ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خطے میں موجودہ تناؤ کے باوجود واشنگٹن سفارتی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق امریکا کی ترجیح ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری لائے بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہو۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی ہیں، جن کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی۔ دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے ردعمل میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے، جس سے صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے بیرونی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا اور حساس تنصیبات کو محفوظ رکھا۔
امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے درمیان حالیہ دنوں میں تفصیلی ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، ایران سے مذاکرات اور سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دے رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوجی قیادت نے بھی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی بڑی کارروائی کا فیصلہ سیاسی قیادت کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو 100 دن مکمل، اب تک کیا کچھ ہوا؟
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں میں بھی غیر یقینی صورتحال کے باعث تشویش دیکھی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل کی جانب بھی ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم زمینی صورتحال اور خطے میں جاری فوجی سرگرمیاں اس سفارتی عمل کے لیے اب بھی ایک بڑا امتحان ہیں۔
واضح رہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی پیش رفت خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی، جبکہ عالمی برادری بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔






