ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔
ایران نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی جیسے اقدامات وقتی نوعیت کے ہوتے ہیں، جن کے دوران فریقین خود کو دوبارہ منظم کر کے جنگ کے لیے تیار کر لیتے ہیں، جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ رہتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی جواب میں دس نکات شامل ہیں، جن میں خطے میں جاری تمام تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کے لیے باقاعدہ طریقہ کار، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو جیسے مطالبات شامل ہیں۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ ایران صرف اسی صورت کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب جنگ کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے اور مستقبل میں دوبارہ تنازع کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: منگل کی ڈیڈ لائن حتمی، موقع ملا تو ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہیں گے: امریکا
ایرانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ خطے کے تمام تنازعات کو ایک جامع امن منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے تاکہ دیرپا استحکام حاصل کیا جا سکے۔
تہران میں موجود تجزیہ کاروں کے مطابق ایران خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک واضح اور مؤثر پروٹوکول چاہتا ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود انحصاری کو ترجیح دے گا، اسی لیے عارضی جنگ بندی کو غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے اس ردعمل پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جلد پریس کانفرنس متوقع ہے۔







