پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد مجاز راستہ وہی ہے جس کی منظوری اسلامی جمہوریہ ایران نے دی ہے۔ پاسداران کی جانب سے بعض حلقوں کی جانب سے متعارف کرائے گئے متبادل سمندری راستے پر بھی اعتراض کیا گیا۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک لائبیریا کے پرچم بردار آئل ٹینکر نے عمان کے ساحل کے قریب واقع متبادل راستہ استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ راہداری عمان نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے تعاون سے ترتیب دی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ایران سمندری خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اس کے استعمال پر کوئی محصول یا فیس عائد نہیں کی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: امریکا-ایران مذاکرات کے بعد سے اب تک تیل کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوئی؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بحرین کانفرنس کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکا کسی ملک کے آبنائے ہرمز پر خصوصی اختیار یا وہاں سے گزرنے پر فیس وصول کرنے کے دعوے کو تسلیم نہیں کرے گا۔
دوسری جانب بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے عمان کی جانب سے متبادل راہداری کے اعلان کا خیرمقدم کیا
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور اس کے استعمال کے قواعد مستقبل میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ایک اہم موضوع رہیں گے۔






