برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے ایران کے مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے، جن میں ملوث عناصر اور ہونے والے نقصانات کی نئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیوز ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ کلپس پر مشتمل ہیں، جو پہلے انٹرنیٹ بندش کے باعث منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے ان پرتشدد واقعات کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں، ٹیکس اور توانائی کی قیمتیں حقیقی چیلنج ہیں، وزیر خزانہ
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایران شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، کرنسی کی قدر کمزور ہو چکی ہے اور عوام کو مہنگائی کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت اور ریاستی اداروں کے اندر کسی بڑے انتشار یا تقسیم کے شواہد نظر نہیں آتے۔
برطانوی میڈیا نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں بھی کسی قسم کی دراڑ یا اختلافات کے آثار سامنے نہیں آئے، جو کسی ممکنہ حکومتی تبدیلی کی جانب اشارہ کریں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاج اور معاشی مشکلات کے باوجود حکومتی ڈھانچہ بدستور مضبوط دکھائی دیتا ہے اور موجودہ حالات فوری طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی نشاندہی نہیں کرتے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کی صورتحال کا انحصار معاشی پالیسیوں، عوامی ردعمل اور علاقائی کشیدگی پر ہوگا۔






