ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ دو سے تین دن میں طے پا سکتا ہے۔
فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان کئی مشترکہ مفادات موجود ہیں، تاہم بعض معاملات میں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے اپنے اہداف ہیں، لیکن امریکا کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
The United States will pursue a deal with Iran regardless of Israel’s position, Vance said.
— NEXTA (@nexta_tv) June 9, 2026
“Israel may like it or may not like it, but we believe it is in the interests of the United States.”
Earlier, Trump warned Netanyahu that he could be left “one-on-one with Iran” if… pic.twitter.com/Z9Tz6s7VK7
جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن کے نتیجے میں ایران کے ساتھ ایک ایسا جوہری معاہدہ ممکن ہو گیا ہے جو 2015 میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے سے بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایسا ماحول تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک طویل المدتی حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ اب اسرائیل اسے پسند کرے یا نہ کرے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا معاہدہ امریکا کے مفاد میں ہے اور امریکی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔






