فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال، سیکیورٹی امور اور ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے کہ تہران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا، اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی جانب پیش رفت کی کوشش کی تو امریکا سخت ردعمل دینے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق حالیہ سفارتی پیش رفت کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنا اور ایسے خطرات کا خاتمہ کرنا ہے جو خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں سے ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے جو ایران کے جوہری عزائم پر مؤثر نگرانی کو ممکن بنائے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدہ نہ صرف امریکا بلکہ خطے کے اتحادی ممالک اور عالمی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق طے شدہ شرائط کی پاسداری کریں گے اور سفارتی عمل کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
مزید پڑھیں: آبنائے باب المندب مزاحمتی قوتوں کے لیے وننگ کارڈ ثابت ہوئی:ایرانی کمانڈر
واضح رہے کہ امریکی صدر کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر اپنی پالیسی میں کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں اور مستقبل میں بھی اس معاملے کو اپنی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل رکھے گا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے طویل المدتی نتائج اور عملی اثرات کا انحصار معاہدے کی شقوں پر مکمل عملدرآمد پر ہوگا۔






