قزاقستان دنیا کا سب سے بڑا خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے۔ اگرچہ یہ بحیرۂ کیسپین سے منسلک ہے، تاہم اسے کھلے سمندر تک براہِ راست رسائی حاصل نہیں۔ عالمی تجارت کے تناظر میں اسے طویل عرصے تک ایک جغرافیائی کمزوری تصور کیا جاتا رہا ہے، کیونکہ دنیا کی زیادہ تر تجارت سمندری راستوں کے ذریعے انجام پاتی ہے۔

تاہم ان سمندری راستوں میں آبنائے ہرمز جیسے اہم گزرگاہی مقامات بھی شامل ہیں، جو جنگی یا بحرانی حالات میں بند ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران کے اطراف حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو عالمی سپلائی لائنز متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مڈل کوریڈور جیسے متبادل تجارتی راستے تیزی سے اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔

چین اور یورپ کو ملانے والی سڑکوں، ریلوے لائنوں اور بندرگاہوں کے اس وسیع نیٹ ورک میں قزاقستان ایک کلیدی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان پل بننے کا قزاقستان کا تصور اب محض ایک وژن نہیں رہا بلکہ اس کی تزویراتی شناخت اور عالمی حیثیت کا اہم ترین جزو بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس جغرافیائی و سیاسی تبدیلی نے قزاقستان کو اپنے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد دی ہے، خصوصاً چین کی جانب سے، جو اپنی تجارتی راہداریوں کو صرف سمندری راستوں تک محدود رکھنے کے بجائے متنوع بنانا چاہتا ہے۔

مڈل کوریڈور یورپ کے لیے بھی ایک پُرکشش متبادل بن چکا ہے، کیونکہ یہ شمالی راہداری کا متبادل فراہم کرتا ہے جو روس کے راستے گزرتی ہے۔ 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد اس راہداری کے ذریعے مال برداری کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹوں کے مطابق اس راستے سے ہونے والی تجارت میں سالانہ 60 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ صورتحال قزاقستان کے لیے خوش آئند سمجھی جا رہی ہے، جو خود کو ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

 تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مڈل کوریڈور اب بھی ایشیا اور یورپ کے درمیان مجموعی تجارت کا صرف ایک محدود حصہ سنبھالتا ہے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ متعدد رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب اس راہداری کی بڑھتی اہمیت روس کے لیے زیادہ خوش آئند نہیں، کیونکہ یہ راستہ روس کو بڑی حد تک نظرانداز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قزاقستان کو ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ اسے ایک طرف روس کے ساتھ اپنے دیرینہ معاشی اور سیاسی تعلقات کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ دوسری جانب چین کے ساتھ پیدا ہونے والے نئے مواقع سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے قزاقستان بظاہر روس اور چین کے درمیان گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس نے اپنی اسی پوزیشن کو طاقت میں تبدیل کر لیا ہے۔ ایک متوازن اور کثیر جہتی خارجہ پالیسی کے ذریعے قزاقستان نہ صرف موجودہ عالمی کشیدگی کے ماحول میں اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت بھی بڑھا رہا ہے۔