امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکی فوج نے ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس نظام کے تقریباً 80 فیصد میزائل انٹرسیپٹرز استعمال کر لیے، جبکہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے تقریباً نصف میزائل بھی خرچ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں باخبر ذرائع اور حالیہ فوجی انوینٹری جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے سینئر کمانڈرز نے نجی سطح پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پینٹاگون کے دفاعی میزائلوں کے مجموعی ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔

سی این این کے مطابق اس سے قبل بھی پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر میں کمی کے حوالے سے خدشات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم پہلی بار تھاڈ سسٹم کے میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو امریکا کو اپنی دفاعی تیاریوں اور مستقبل کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کے تناظر میں میزائل ذخائر کی بحالی کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔

تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے سی این این کی اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق تھاڈ اور پیٹریاٹ جیسے جدید فضائی دفاعی نظاموں کے میزائلوں کی تیاری نہ صرف مہنگا بلکہ وقت طلب عمل بھی ہے، اس لیے اگر ذخائر واقعی اس حد تک کم ہوئے ہیں تو امریکا کو اپنی دفاعی پیداوار اور سپلائی چین مزید مضبوط بنانا ہوگی۔

واضح رہے کہ تھاڈ اور پیٹریاٹ امریکا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔