رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس ممکنہ دفاعی معاہدے کی مالیت تقریباً 6 سے 7 کروڑ امریکی ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، ایران کی جانب سے یہ خریداری اپنے مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں ہانگ کانگ میں قائم ایک تجارتی کمپنی ژونگ چِنگ باؤ شانگ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ نے مبینہ طور پر ثالث کا کردار ادا کیا، جس نے ایرانی خریدار اور چینی سپلائر کے درمیان رابطہ قائم کیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی کمپنی کی جانب سے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے آیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ابتدائی منصوبے میں میزائلوں کو مغربی چین کے شہر ارومچی سے روانہ کرنے کی تجویز شامل تھی، جہاں سے انہیں زمینی یا فضائی راستے کے ذریعے ایران پہنچایا جا سکتا ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں پاکستان کے راستے ترسیل کا امکان بھی ظاہر کیا گیا، تاہم پاکستان کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس دعوے کو مکمل طور پر من گھڑت، بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کا اس مبینہ دفاعی معاہدے یا اسلحے کی کسی بھی ممکنہ ترسیل سے کوئی تعلق نہیں اور اس نوعیت کی خبریں غلط معلومات پھیلانے کے مترادف ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا
ادھر چین کی وزارت خارجہ نے بھی رائٹرز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ چینی حکام کا کہنا تھا کہ بیجنگ ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے سفارتی حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور چین کی دفاعی برآمدات بین الاقوامی قوانین اور اپنی قومی پالیسیوں کے مطابق ہوتی ہیں۔
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق QW-12 اور FN-16 جدید پورٹیبل فضائی دفاعی میزائل نظام ہیں، جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ میزائل اپنی نقل و حرکت میں آسانی، تیز تعیناتی اور مؤثر ہدفی صلاحیت کے باعث جدید جنگی حکمت عملی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک مختصر فاصلے کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اس قسم کے نظام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ اگر مستقبل میں اس نوعیت کا کوئی معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ خطے میں پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں اس معاہدے کی نہ تو ایران نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے اور نہ ہی کسی آزاد بین الاقوامی ادارے نے اس کی توثیق کی ہے
مزید پڑھیں: ٹائمز امپیکٹ رینکنگ 2026 میں ایران کی کوئی بھی یونیورسٹی کیوں شامل نہیں؟
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگرچہ ذرائع معاہدہ طے پانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن ترسیل کی تاریخ، میزائلوں کی حتمی تعداد اور دیگر انتظامی معاملات میں اب بھی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ اسی لیے اس خبر کو فی الحال ایک غیر مصدقہ بین الاقوامی رپورٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
واضح رہے کہ اس وقت تک چین، پاکستان اور ایران میں سے کسی بھی ملک نے رائٹرز کے دعوؤں کی باضابطہ توثیق نہیں کی، جبکہ چین اور پاکستان دونوں ان اطلاعات کی واضح تردید کر چکے ہیں۔







