ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ رابطے صرف عمان کے ساتھ ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا اور اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظامی معاملات پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان میں کوئی صداقت نہیں اور تہران کی موجودہ توجہ صرف عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے، اسی لیے اس سے متعلق معاملات پر علاقائی سطح پر مشاورت جاری رہنا ضروری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے تازہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران اس وقت امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے آبنائے ہرمز سے متعلق علاقائی تعاون کو ترجیح دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کا انحصار خطے کی سکیورٹی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔







