عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ یقین دہانی اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کرائی۔
اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں واضح کیا گیا کہ اٹلی نے کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی امریکا کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی نے امریکا کے ساتھ موجود دفاعی معاہدوں کا مکمل احترام کرتے ہوئے بھی ایران کے خلاف کسی جنگی مشن کی منظوری نہیں دی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ایک بیان پر اٹلی میں سیاسی تنازع پیدا ہو گیا تھا۔
Ho parlato con il Ministro degli Esteri iraniano @araghchi. L’Italia non ha mai preso parte ad alcuna iniziativa militare e non ha mai autorizzato l’utilizzo delle basi per azioni di guerra contro l’Iran, nel rispetto più rigoroso dei trattati con gli Stati Uniti. Ho chiesto che… pic.twitter.com/9LC5ad7r9C
— Antonio Tajani (@Antonio_Tajani) June 25, 2026
مارک روٹے نے اشارہ دیا تھا کہ امریکی کارروائیوں میں اٹلی کے فوجی اڈے استعمال ہوئے، جس کے بعد اطالوی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی پہلے ہی واضح کر چکی تھیں کہ اٹلی کے فضائی اڈے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کیے گئے۔
ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اطالوی وزیر دفاع گوئیڈو کروسیٹو نے بھی کہا تھا کہ اگر امریکی افواج نے اطالوی تنصیبات سے کوئی سہولت حاصل کی تو وہ صرف تکنیکی اور لاجسٹک معاونت تک محدود تھی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مختلف یورپی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ خطے کی صورتحال اور امریکا و اسرائیل کی کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔






