20 ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ قوانین انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کی سرگرمیوں کو شدید متاثر کریں گے اور غزہ میں جاری انسانی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو محدود کر دیں گے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں داخل ہونے والی امداد پہلے ہی مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے ناکافی ہے، جب کہ تقریباً پوری آبادی زندگی بچانے والی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔
بیان میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ موجودہ شکل میں اس قانون کو نافذ نہ کرے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔
Statement by the Netherlands, the UK, France, Sweden, Japan, Australia and others, on the importance of humanitarian access to Gaza. https://t.co/ZQzbGr0DkS
— Dutch Ministry of Foreign Affairs 🇳🇱 (@DutchMFA) June 8, 2026
یہ ردعمل اسرائیل کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے ان قوانین کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس کے نتیجے میں اب تک 37 امدادی تنظیموں کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان تنظیموں نے اپنے ملازمین کی تفصیلی فہرستیں فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔
نئی پابندیوں سے متاثر ہونے والی تنظیموں میں آکسفیم، سیو دی چلڈرن، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی شامل ہیں۔
امدادی اداروں کا مؤقف ہے کہ عملے کی تفصیلات فراہم کرنے سے ان کے کارکنوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تنظیموں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران سیکڑوں امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے باعث انسانی امداد کی فراہمی پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل کے اس فیصلے پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہیں۔





