اپنے نشریاتی خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے میزائلوں کی وجہ سے موجود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد لبنان پر قبضہ کرنا اور اس کے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنا ہے۔
انہوں نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی اتحاد کو فروغ دیں، بیرونی دباؤ اور امریکا و اسرائیل کے ایجنڈے کو مسترد کریں اور لبنانی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔
نعیم قاسم نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے اسرائیل اور امریکا کے منصوبے کو ناکام بنایا ہے اور اب خطے میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت تک رسائی حاصل کی، جو امریکا اور اسرائیل کی شکست کا باضابطہ اعتراف ہے۔
نعیم قاسم نے کہا کہ صبر اور تحمل کمزوری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا تزویراتی فیصلہ تھا۔ مزاحمت کی استقامت ہی مستقبل کا تعین کرتی ہے، طاقت کے توازن کو تبدیل کرتی ہے اور جارحیت کو شکست دیتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دریائے لیتانی کے شمال میں تنظیم کو غیر مسلح کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ حزب اللہ کے جنگجو اب بھی علی طاہر کی پہاڑیوں میں موجود ہیں اور اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے بیانات مختلف، ایران اور اسرائیل پر امریکی مؤقف میں فرق کیوں ہے؟
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ مزاحمت اسرائیلی قبضے کا نتیجہ ہے اور حزب اللہ نے اس جارحیت کو روک دیا جس کا مقصد تنظیم کا خاتمہ تھا۔
نعیم قاسم نے یہ بھی کہا کہ اگر لبنانی حکومت مکمل اسرائیلی انخلا اور قومی خودمختاری کے راستے پر آگے بڑھتی ہے تو حزب اللہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔





