امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ دیرپا امن معاہدے کے لیے امریکا کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان میں جنگ جاری رکھنے کے لیے اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جو امن عمل کو متاثر کریں۔
Exclusive: U.S. intelligence agencies have warned the Trump administration that Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu is likely to take steps that will undermine President Trump’s effort to reach a lasting peace deal with Iran. https://t.co/LF1mowtp08
— The Washington Post (@washingtonpost) June 19, 2026
انٹیلیجنس رپورٹس، جن میں رواں ہفتے گردش کرنے والی ایک رپورٹ بھی شامل ہے جس کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے خلاف لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے ایک بنیادی نکتے، یعنی تمام محاذوں پر جنگ بندی، کے خلاف ہوگا۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق نئی انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال متوقع قومی انتخابات کے پیش نظر بنیامین نیتن یاہو کی سیاسی بقا اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ اسرائیلی عوام کو یہ تاثر دیں کہ وہ لبنان سے فوجیں واپس نہیں بلائیں گے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کریں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی بعض شرائط سے مطمئن نہیں، کیونکہ اس کے خیال میں یہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کے اس کے وسیع تر مقصد کو متاثر کرتی ہیں۔
ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ حزب اللہ کے خلاف اس کی دفاعی صلاحیت اور کارروائیوں کو محدود کر سکتا ہے۔





