سیوٹا کے صدر خوان خیسوس ویواس نے صورتحال کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے افراد کی تعداد شہر کی مجموعی آبادی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر ہے۔ سیوٹا کی آبادی تقریباً 83 ہزار 600 بتائی جاتی ہے۔
تاہم ہسپانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق سرکاری اندازوں کے مطابق جمعرات کی صبح سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔
Europe faces major migration surge as over 50,000 cross into Spain’s Ceuta in 24 hours.
— Suppressed News. (@SuppressedNws1) July 31, 2026
🇲🇦 Over 50,000 Moroccans crossed into the Spanish-controlled enclave of Ceuta, increasing the city’s population by nearly 60%. Large crowds are also moving toward the Spanish-controlled…
یہ غیر معمولی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سیوٹا اور میلیلا پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کو سمندر میں روکنے کے بعد فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔
ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے سیوٹا کے دورے کے دوران اس صورتحال کو ’حملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو جلد از جلد مراکش واپس بھیجا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عدالتی فیصلے کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی گئیں، جن سے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراکشی حکام تارکینِ وطن کی واپسی کے منصوبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زائد افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
ہسپانوی حکومت نے سیوٹا اور اس کے ہمسایہ علاقے میلیلا میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے مسلح افواج تعینات کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق میلیلا میں بھی رات بھر کے دوران 300 سے 400 افراد کے داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
⚡️ Around 49,000 migrants have arrived in Ceuta over the past 24 hours — Reuters
— NEXTA (@nexta_tv) July 31, 2026
People are crossing en masse from Morocco by sea in inflatable rings and boats, while others are attempting to break through the land border.
Three military platoons, a diving unit and a naval… pic.twitter.com/bjmA2SzTOZ
سرکاری اندازوں کے مطابق سیوٹا میں داخل ہونے والے افراد میں کم از کم سات ہزار نابالغ بچے اور نوجوان شامل ہیں۔ آنے والوں میں مردوں کے علاوہ خواتین اور کم عمر بچے بھی موجود ہیں۔
عام طور پر تارکینِ وطن سیوٹا پہنچنے کے لیے ساحل کے دور دراز حصوں سے کئی کلومیٹر تیر کر آتے ہیں، تاہم اس مرتبہ متعدد افراد سرحدی باڑ کے قریب تک پہنچ گئے اور بعض نے سمندر کے کنارے پتھریلے راستوں سے گزر کر علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس دوران مراکشی سرحدی اہلکار کہاں تھے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو آگے بڑھنے سے کیوں نہیں روکا جا سکا۔
ایک تارکِ وطن نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ وہ واپس مراکش جا رہا ہے کیونکہ حالات انتہائی خطرناک ہیں۔
اس کا کہنا تھا کہ یہ بالکل اچھا نہیں ہے۔ لوگ یہاں جان سے جا رہے ہیں۔ جو لوگ ابھی آنے کا سوچ رہے ہیں، وہ ایسا نہ کریں۔
مقامی میڈیا کے مطابق شہر کی سڑکوں پر افراتفری کی صورتحال دیکھنے میں آئی، جبکہ کئی رہائشی خوف کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک مقامی ہسپانوی سکیورٹی گارڈ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں لوگ گھروں سے نکلنے سے گھبرا رہے ہیں اور موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنگین محسوس ہو رہی ہے۔
سیوٹا اور میلیلا افریقہ میں یورپی یونین کی واحد زمینی سرحدیں ہیں اور طویل عرصے سے ہجرت کے مسئلے کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہیں۔
اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے سیوٹا سے سامنے آنے والی تصاویر کو ’تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے قابو نقل مکانی یورپ کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ فن لینڈ اور جرمنی سمیت کئی یورپی رہنماؤں نے بھی سپین کی سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
🇪🇸🇲🇦 Spain s Interior Ministry estimates that about 49,000 illegal migrants crossed into Ceuta in the last 24 hours from Morocco
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) July 31, 2026
The vast majority of them are military-aged men
To put that into context, the U.S has around 50,000 troops deployed to the Middle East, and…
دوسری جانب یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا فان ڈیر لائن نے کہا کہ سیوٹا کی تصاویر ’ناقابلِ قبول‘ ہیں اور صورتحال پر فوری قابو پایا جانا چاہیے۔
ہسپانوی وزیرِ خارجہ نے بعض یورپی رہنماؤں کے بیانات پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپین کو ’پارٹی سیاست نہیں بلکہ یورپی یکجہتی‘ کی ضرورت ہے۔
سیوٹا اور میلیلا 15ویں صدی سے سپین کے زیرِ انتظام علاقے ہیں اور 1995 سے محدود خود مختاری رکھتے ہیں۔ مراکش ان علاقوں پر اپنا دعویٰ بھی کرتا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں یہ علاقے کئی مرتبہ کشیدگی کا باعث بن چکے ہیں۔
سنہ 2021 میں بھی تقریباً آٹھ ہزار افراد سیوٹا میں داخل ہوئے تھے، تاہم موجودہ بحران کو اس سے کہیں زیادہ بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔






