امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، جہاں وہ ایران کے ساتھ ہونے والے عبوری معاہدے پر پیش رفت اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی وفد بھی ہفتے کی شب سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔
ادھر پاکستان کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کو اس معاہدے کا اہم سہولت کار اور ثالث قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی اور مفاہمتی فریم ورک کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
معاہدے کے تحت لبنان میں جنگ بندی، ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات، آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایرانی منجمد اثاثوں سے متعلق امور شامل ہیں۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے کے باعث معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں حملے نہ رکے تو آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
Vice President JD Vance is travelling to Switzerland for talks with Iran as the US looks to cement a tentative peace deal. pic.twitter.com/61DCAOJaYb
— The National (@TheNationalNews) June 21, 2026
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے 55 تجارتی جہاز بحفاظت گزرے جبکہ 17 ملین بیرل سے زائد تیل عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہوا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں تجارتی جہاز رانی کے تسلسل کو یقینی بنائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی محصول عائد نہیں کیا جائے گا، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا مستقبل میں نئی شرائط عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق، یعنی تمام محاذوں پر جنگ بندی، خصوصاً لبنان میں جنگ بندی، پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے پر عمل نہ ہوا تو خطے میں توانائی کی ترسیل متاثر رہ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی وفد مذاکرات میں بالخصوص لبنان میں جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی اور تیل و پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے نکات پر پیش رفت چاہتا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج کے خلاف نئی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں، جبکہ حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں۔





