یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب واشنگٹن کو دنیا بھر میں نایاب معدنیات پر چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش لاحق ہے۔
ڈان اخبار کے مطابق امریکی وفد کی قیادت رابرٹ لوئس اسٹریئر دوم نے کی، جو امریکی حکومت کے تعاون سے قائم کردہ ’کریٹیکل منرلز فورم‘ کے صدر ہیں۔ سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون، سپلائی چین کے تحفظ اور پاکستان میں پائیدار سرمایہ کاری کے فروغ پر گفتگو ہوئی۔
یہ پیش رفت امریکا اور انڈیا کے درمیان دفاعی تعاون کے 10 سالہ معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آئی۔
اسٹریئر نے کہا کہ چین کا معدنیات پر غلبہ امریکی سلامتی اور اقتصادی استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، اس لیے فورم دنیا بھر میں امریکی صنعت کے لیے قابلِ اعتماد سپلائی چینز قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توجہ خاص طور پر تانبا اور اینٹیمونی جیسی دھاتوں پر ہے تاکہ مالی اور سلامتی کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
The U.S. Critical Minerals Forum President, Mr. Robert Louis Strayer II, along with U.S. Chargé d’Affaires Ms. Natalie Baker, called on the Federal Minister for Finance & Revenue Senator Muhammad Aurangzeb and his team today.
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) October 31, 2025
Discussions focused on strengthening Pakistan-U.S.… pic.twitter.com/fvUAWxyVJg
اسٹریئر نے ٹیکنالوجی کے تبادلے، دانشورانہ املاک کے تحفظ اور امریکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان سائنس، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں نمایاں ٹیلنٹ رکھتا ہے اور مستقبل میں معدنی ترقی کا مرکز بن سکتا ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور معدنیات کے شعبے میں مستحکم ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان قانونی و ضابطہ جاتی اصلاحات پر کام کر رہا ہے اور امریکا کی جانب سے منظم تجاویز کا خیر مقدم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس کے امریکا، چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مستحکم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ معدنی شعبہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک انقلابی موقع فراہم کرتا ہے، جو اسے درآمدی معیشت سے برآمدی ترقی کی سمت لے جا سکتا ہے۔
ایک مضبوط معدنی پالیسی فریم ورک ملک کو مالی خسارے اور بیرونی انحصار سے نجات دلانے میں مدد دے گا۔
امریکی وفد نے اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین سرکاری سبسڈی اور کمزور ماحولیاتی ضوابط کے ذریعے معدنیات کی پراسیسنگ میں اپنی برتری بڑھا رہا ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے مطابق یہ معدنیات جدید معیشت کی بنیاد ہیں اور چین نے ان پر اپنی اجارہ داری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم اسٹریئر نے اعتراف کیا کہ امریکی سرمایہ کاری کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ پیداواری لاگت اور معدنی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔






