ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایرانی ساحلی نگرانی کے مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو طے شدہ سمجھوتوں اور سفارتی اصولوں کے منافی اقدام ہے۔ تہران کے مطابق ایسے حملے نہ صرف باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے دفاعی نوعیت کی کارروائیاں کیں اور امریکا سے منسلک بعض اہداف کو نشانہ بنایا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ یا حملے کے سامنے خاموش نہیں رہے گا، تاہم تہران خطے میں غیر ضروری کشیدگی کے بجائے امن اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ ایرانی حکام نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ایسے اقدام کے لیے استعمال نہ ہونے دیں جو ایران کے خلاف کارروائی کا سبب بنے۔ تہران نے ہمسایگی کے اصولوں اور علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھنے کی اپیل کی ہے۔

ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف کارروائیوں میں براہ راست یا بالواسطہ تعاون کرتا ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

مزید پڑھیں: ایران نے چار مرتبہ جہاز پر حملہ کیا جو بالکل اچھا نہیں لگا: ٹرمپ

دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ پہلے ہی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی رابطے اور مذاکراتی کوششیں مزید اہم ہو گئی ہیں، کیونکہ کسی بھی غلط فہمی یا مزید فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ عالمی برادری دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے راستے تلاش کیے جائیں۔