ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں کیے گئے امریکی حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بالخصوص آرٹیکل 2، اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال پر عائد پابندی کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں، کسی بھی خودمختار ریاست کے خلاف فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے اور اسے کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے گرنے کے واقعے کا بھی حوالہ دیا، تاہم اس حوالے سے کسی براہِ راست ذمہ داری کو قبول نہیں کیا۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں غیر ضروری خطرات کو جنم دے رہی ہیں اور ان کے نتائج پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بیان میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو ’جارحیت کے مراکز‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، ایران کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت دفاع کے جائز حق کے دائرے میں آتے ہیں۔
ایران نے خطے کے ممالک، خصوصاً خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک، سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود اور فوجی تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی امریکی یا اسرائیلی کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہ دیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ متعلقہ ممالک کو بھی ممکنہ تنازع کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تشویشناک، کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، چین
ایرانی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نوٹس لیں اور ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں جو امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کا حامی ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایرانی حکام نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تنازعات کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔






