امریکی میڈیا نے خبر دی کہ ٹرمپ کے خاص نمائندے سٹیو وٹکاف اور پینٹاگون کے افسر ایلبرج کولبی کے فون نشانے پر تھے۔ یہ وہی سٹیو وٹکاف ہیں جو ایران سے ہونے والی بات چیت میں امریکہ کی طرف سے سب سے اہم آدمی تھے۔ جب یہ معاملہ سامنے آیا تو اسرائیل نے صاف انکار کیا، پینٹاگون نے کوئی جواب نہیں دیا اور وائٹ ہاؤس نے خبر کو جھوٹا کہہ دیا۔
اسی دوران ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان فون پر بہت سخت لڑائی ہوئی۔ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ایکسیوس نے دو امریکی افسروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو کہا کہ تم پاگل ہو گئے ہو، سب تم سے نفرت کرتے ہیں اور میں تمہیں جیل جانے سے بچا رہا ہوں۔
یہ اس لیے ہوا کیونکہ اسرائیل نے لبنان میں بیروت پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تھا۔ ایران نے پہلے ہی صاف کہہ دیا تھا کہ جب تک لبنان میں حملے بند نہیں ہوتے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کو ڈر تھا کہ اسرائیل کی وجہ سے مہینوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کی بات کے باوجود کہا کہ فوج لبنان میں جہاں ہے وہیں رہے گی۔
اس پوری کہانی میں پاکستان نے وہ کام کیا جو بڑی طاقتیں نہ کر سکیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران گئے، آرمی چیف عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خط ایران کے سپریم لیڈر کو دیا۔ پاکستان نے روس اور ایران کے ساتھ بھی الگ ملاقاتیں کیں۔ آخرکار اٹھارہ جون دو ہزار چھبیس کو وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد معاہدے پر ثالث کی حیثیت سے دستخط کیے۔ ٹرمپ نے فرانس میں رات کے کھانے سے پہلے اور ایرانی صدر پزشکیان نے ایران میں بیٹھ کر اون لائن دستخط کیے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات ہوئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی وفد نے ایک موقع پر مذاکرات چھوڑنے کی دھمکی دی اور سوشل میڈیا پر بھی یہ باتیں ہوئیں لیکن وہ گئے نہیں اور بات چیت رات ایک بجے کے بعد تک جاری رہی۔ وینس نے کہا کہ تھوڑی دھمکیاں بھی تھیں اور تھوڑا رونا بھی تھا لیکن آخر میں بات چیت جاری رہی اور بہت اچھی پیشرفت ہوئی۔
ایران کے پھنسے ہوئے پیسوں کے بارے میں وینس نے بتایا کہ جیرڈ کشنر نے قطر کے ساتھ مل کر ایک حل نکالا ہے کہ اگر ایران کے پیسے جاری کیے گئے تو وہ امریکی سویا بین، مکئی اور گندم خریدنے پر خرچ ہوں گے تاکہ پیسہ ایرانی عوام تک پہنچے نہ کہ فوجی کاموں میں جائے۔






