لبنانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں امریکا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کیا تو ایران اس کا سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی صورت میں ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرسکتے ہیں: امریکی اخبار
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب، فرانس، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں، جن میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جاپان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔





