ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں بعض اہم نکات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ابھی ایسا کوئی مرحلہ نہیں آیا جہاں کسی جامع یا حتمی معاہدے کا اعلان کیا جا سکے، مذاکراتی مسودے کے متعدد حصوں پر کام مکمل ہونے کے قریب ہے، لیکن امریکی مؤقف میں بار بار تبدیلیوں کے باعث عمل سست روی کا شکار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہا ہے اور سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی مفادات اور بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ضح کیا کہ کسی بھی مجوزہ معاہدے کی تفصیلات کا جائزہ متعلقہ ریاستی ادارے اور اعلیٰ حکام لیں گے، جس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
Iran s Foreign Ministry spokesman rejects speculations about a deal with the US and says no final agreement has been finalised yet. pic.twitter.com/enzBUYN3Dc
— PressTV Extra (@PresstvExtra) June 11, 2026
ایرانی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قیادت نے امریکا کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدے کی شرائط پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے۔ تاہم تہران نے ان دعوؤں کو قبل از وقت اور غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری مذاکرات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مستقبل کے مذاکرات کے فریم ورک جیسے اہم موضوعات زیر غور ہیں۔ اگرچہ فریقین کے درمیان بعض امور پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن کئی حساس معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تہران نے یورینیم ذخائر کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے یا اپنی جوہری صلاحیتوں پر یکطرفہ پابندیوں کے مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ادھر ایرانی مذاکراتی ٹیم سے وابستہ اعلیٰ عہدیداروں نے بھی امریکا کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام کی بڑی وجہ واشنگٹن کے متضاد فیصلے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق سنجیدہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو اب بھی کئی پیچیدہ معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔






