امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو جیو پولیٹیکل اسپاٹ لائٹ میں لا کھڑا کیا ہے۔ ٹرمپ نے کھل کر کہا ہے کہ امریکا گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے ’مختلف آپشنز‘ پر غور کر رہا ہے، جس پر یورپ میں تشویش اور ڈنمارک میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خودمختار خطہ ہے۔

گرین لینڈ جغرافیائی طور پر شمالی امریکا میں واقع ہے، مگر انتظامی طور پر مملکتِ ڈنمارک کا حصہ ہے۔ اس کی تقریباً 81 فیصد زمین مستقل برف سے ڈھکی ہوئی ہے اور آبادی محض 56 ہزار افراد پر مشتمل ہے، لیکن اس برف کے نیچے بے پناہ دولت چھپی ہوئی ہے۔

ارضیاتی سرویز کے مطابق گرین لینڈ میں ریئر ارتھ منرلز، یورینیم، سونا، تیل، گیس، لیتھیم، گریفائٹ اور تانبے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ یہ معدنیات جدید دنیا کی بنیاد ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں، ونڈ ٹربائنز، اسمارٹ فونز، ڈرونز اور جنگی طیاروں میں انہی وسائل کا استعمال ہوتا ہے۔ آج کے دور میں معدنیات صرف وسائل نہیں بلکہ طاقت ہیں۔

اس وقت چین عالمی سطح پر ریئر ارتھ منرلز کی مارکیٹ پر حاوی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی اس انحصار کو کم کرنا چاہتے ہیں اور گرین لینڈ انہیں ایک متبادل سپلائی فراہم کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ جزیرہ اسٹریٹجک طور پر نہایت قیمتی بن چکا ہے۔

گرین لینڈ صرف معدنیات تک محدود نہیں۔ یہ بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک کے درمیان ایک قدرتی دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آرکٹک کی برف پگھل رہی ہے، جس سے نئی سمندری تجارتی راہیں کھل رہی ہیں، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 40 فیصد تک کم کر سکتی ہیں۔


گرین لینڈ پر اثر و رسوخ کا مطلب ہے ان راستوں پر نظر، کنٹرول اور فوجی برتری۔ یہاں پہلے ہی امریکا کا ایک بڑا فوجی اڈہ Pituffik Space Base موجود ہے، جو میزائل دفاع اور خلائی نگرانی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ روس اور چین کی آرکٹک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان بین البراعظمی میزائلوں کا سب سے مختصر راستہ بھی قطبی خطے سے گزرتا ہے۔

یورپی رہنماؤں نے امریکی کنٹرول کے تصور کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ڈنمارک نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ پر زبردستی کی گئی تو اس سے نیٹو اتحاد کو شدید نقصان پہنچے گا۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی، اسپین اور پولینڈ بھی اس خیال کی مخالفت کر چکے ہیں۔


گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں۔ اگرچہ بہت سے گرین لینڈرز ڈنمارک سے مکمل آزادی کے حامی ہیں، مگر وہ امریکی دباؤ کے بجائے برابری کی بنیاد پر شراکت داری چاہتے ہیں۔

اصل تنازع کیا ہے؟

یہ معاملہ صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نہیں بلکہ سلامتی، وسائل، تجارتی راستوں اور آرکٹک کے مستقبل کا ہے۔ گرین لینڈ اب بھی برف سے ڈھکا ہوا ہے، مگر اس کے گرد سیاست کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔