امیر سعید ایروانی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران ہمیشہ باہمی احترام، برابری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے، ایرانی قوم اور قیادت نے ماضی میں بھی دباؤ کی سیاست کو مسترد کیا اور آئندہ بھی قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی سفیر کے مطابق تہران نے کبھی دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات نہیں کیے اور نہ ہی مستقبل میں ایسے کسی طرزِ عمل کو قبول کرے گا، اگر امریکا واقعی کسی دیرپا اور مؤثر معاہدے کا خواہاں ہے تو اسے دھمکیوں اور دباؤ کے بجائے سفارت کاری اور باہمی اعتماد کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے اور جنگ کسی بھی صورت ملک یا خطے کے مفاد میں نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے ایران کو اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ بعض قوتیں یہ تصور کرتی ہیں کہ دباؤ بڑھا کر ایران کو جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ سوچ حقیقت سے دور ہے،ایرانی عوام نے مختلف ادوار میں مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ہمیشہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار کا دفاع کیا ہے۔
مزید پڑھیں: کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکیں گے ، ٹرمپ کی نئی دھمکیوں پر ایران کا دوٹوک جواب
مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور سفارتی حل کا حامی ہے، تاہم کسی بھی بات چیت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق احترام اور مساوات کے اصولوں کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی سلامتی، خودمختاری اور عوامی مفادات ایران کی اولین ترجیحات ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے تعلقات، جوہری پروگرام اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مختلف سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مسائل کے حل کا راستہ دباؤ نہیں بلکہ سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ہیں۔






