جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا تصادم

15 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

لیکن اب پہلی مرتبہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیاں کی ہیں اور دونوں ہی فریق ایک دوسرے کو معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

امریکی حملہ کیوں کیا گیا؟

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق جمعے کی شب ایرانی ساحلی علاقوں میں میزائل، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز  ایور لولی  پر حملے کے جواب میں کی گئی، جسے عمان کے قریب ایک نامعلوم میزائل یا پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو جنگ بندی کی  احمقانہ خلاف ورزی  قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے اسی کارروائی کے دوران تین ڈرون بھی تباہ کیے۔

بعد ازاں امریکی فوج نے حملے کی ویڈیو بھی جاری کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا مفاہمتی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایران کا ردعمل

ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک کے قریب ساحلی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم بندرگاہ کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے ہیں، تاہم ان حملوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی کارروائیاں دوبارہ ہوئیں تو ایران کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔

اصل تنازع آبنائے ہرمز کیوں؟

موجودہ بحران کا سب سے اہم مرکز آبنائے ہرمز بن چکی ہے۔ دنیا کی تیل بردار تجارت کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اسی لیے اسے عالمی توانائی کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران اس نے اس آبی گزرگاہ کو اپنی قومی سلامتی اور سفارتی دباؤ کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔

امریکا اور خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ یہاں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت برقرار رہے، جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ مستقبل کے انتظامات اس کی خودمختاری اور ساحلی حقوق کو مدنظر رکھ کر ہی طے کیے جائیں۔

معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق کیا طے ہوا تھا؟

مفاہمتی یادداشت کی ایک اہم شق کے مطابق ایران نے صرف 60 روز کے لیے بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اسی دوران ایران، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کو مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر مذاکرات بھی کرنا تھے۔ معاہدے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 60 دن مکمل ہونے کے بعد انتظامات کس نوعیت کے ہوں گے۔

ایران پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ جنگ سے پہلے والی صورتحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوگی، جب کہ امریکا واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی صورت ایران کو جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر کیا الزامات لگا رہے ہیں؟

ایران کا کہنا ہے کہ امریکی حملے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی ہیں، جس میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایران نے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کا الزام بھی امریکا پر عائد کیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں پر حملے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کرنا ایران کی جانب سے معاہدے کی روح کے منافی اقدامات ہیں۔

لبنان کا معاملہ بھی تنازع بن گیا

امریکا اور ایران کے درمیان تنازع صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا۔ حالیہ اسرائیل۔لبنان فریم ورک معاہدے پر بھی ایران نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو امریکا اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا، کیونکہ امریکا ہی اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی اور معاہدوں کا ضامن ہے۔ اسی وجہ سے تہران نے لبنان کو بھی موجودہ مذاکراتی عمل کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔

کیا معاہدہ خطرے میں ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فوجی تصادم نے مفاہمتی یادداشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ابھی سفارتی رابطے موجود ہیں اور اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مذاکراتی عمل کسی بھی وقت مکمل طور پر ناکام ہو سکتا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی واضح کیا ہے کہ اختلافات پر بات چیت ضرور ہوگی، لیکن اگر حملے ہوئے تو جواب بھی دیا جائے گا۔

آگے کیا ہوسکتا ہے؟

آنے والے ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات دوبارہ متوقع ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، منجمد اثاثوں اور آبنائے ہرمز کے مستقبل جیسے اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔

موجودہ صورتحال بتا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری طاقت کا سب سے اہم امتحان بن چکی ہے۔

اگر کشیدگی مزید بڑھی تو صرف امریکا اور ایران ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی کی منڈیاں، تیل کی قیمتیں اور پورے مشرقِ وسطیٰ کا امن بھی براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ تاحال مفاہمتی معاہدہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، لیکن اس پر پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ ضرور آ چکا ہے۔ اب آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ واشنگٹن اور تہران مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا ایک بار پھر خطہ مکمل تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔