ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں بتایا کہ گزشتہ رات انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور ترکیہ کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی علاقائی ملک نے بھی ایسی کارروائی میں حصہ لیا تو ایران اس کے خلاف بھی سخت ردعمل دے گا۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ اگر ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکی قیادت والے عالمی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے کی صورت میں مغربی طاقتوں کے گزشتہ ڈھائی سو برس میں قائم کیے گئے عالمی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر اس نظام کے ستون گر گئے تو نہ کمانڈ سینٹر محفوظ رہے گا اور نہ ہی وہ عالمی منڈیاں جن پر یہ نظام قائم ہے۔
ادھر ایک سینئر ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران نے وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کے منصوبے پہلے ہی تیار کر رکھے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی وانا کے مطابق عہدیدار نے امریکی میڈیا میں ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹس کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اسرائیل کے اہم انفراسٹرکچر اور خطے میں امریکی توانائی کے اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کر رکھا ہے، جس پر ضرورت پڑنے پر فوری عمل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران پر ہفتے کے آخر میں کیے جانے والے بڑے حملے کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور خطے کے بعض دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ ملتوی کیا گیا ہے، تاہم اس کی منسوخی کا انحصار فوری امن معاہدے پر ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر جلد معاہدہ طے پا گیا تو حملہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ اسرائیل نے بھی امریکی فیصلے کے بعد اپنی ممکنہ کارروائی مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔






