ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل اسدی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اب تک اپنی تمام عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا اور ملک کے پاس ایسے متعدد آپشنز موجود ہیں جنہیں حالات کے مطابق بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے یا اسے جھکانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ ایرانی قوم نے ماضی میں بھی مختلف چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔
بریگیڈیئر جنرل اسدی نے کہا کہ بعض عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران پر مختلف مطالبات عائد کیے جا رہے ہیں، تاہم تہران اپنی پالیسیوں کا فیصلہ خود کرے گا اور کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی حکمت عملی مکمل طور پر ملکی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ملک کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں اور دفاعی ادارے مسلسل اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل سردار محبی نے بھی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ بندی کے دوران ایرانی مسلح افواج نے اپنی عسکری اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم، مضبوط اور تیار ہیں اور جدید دفاعی حکمت عملیوں پر مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی قوت صرف روایتی عسکری وسائل تک محدود نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں اس کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، صدر ٹرمپ
یاد رہے کہ ایرانی فوجی قیادت کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، سفارتی سرگرمیوں کے باوجود مختلف فریقین کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، جس سے صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ حالات میں سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کی کامیابی خطے میں استحکام کے لیے انتہائی اہم ہوگی، کیونکہ کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن و معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔






