اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق تل ابیب نے باضابطہ طور پر واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ زیرِ غور معاہدے کے نکات اور مفاہمتی دستاویز سے متعلق معلومات اسرائیل کے ساتھ شیئر کی جائیں، تاہم امریکی انتظامیہ نے اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے اسرائیلی قیادت کو آگاہ کیا کہ مذاکرات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قومی سلامتی سے جڑے معاملات کے باعث معاہدے کی مکمل تفصیلات کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکتیں۔ امریکی فیصلے کے بعد اسرائیلی سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں حیرت اور تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ ماضی میں ایران سے متعلق اہم معاملات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت معمول کا حصہ رہی ہے۔
دوسری جانب مختلف ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک 14 نکاتی ابتدائی مفاہمتی خاکہ زیرِ غور ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی لانے سے متعلق متعدد تجاویز شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ مسودے میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف نافذ بعض بحری پابندیوں اور ناکہ بندی کے اقدامات کو 30 روز کے اندر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل صنعت پر عائد پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی بھی زیرِ غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری اور پائیدار جنگ بندی کے اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی اقتصادی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے 300 ارب ڈالر تک کے مالی تعاون کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طور پر 24 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے مرحلہ وار جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ابتدائی اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر امریکا مذاکرات کے آغاز سے قبل 12 ارب ڈالر تک جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
مجوزہ معاہدے کے دیگر نکات میں ایران کے میزائل پروگرام، خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کے ساتھ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے معاملات کو آئندہ مرحلے کے مذاکرات میں شامل کرنے کی تجاویز بھی موجود ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کسی بھی حتمی معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے توثیقی قرارداد منظور کرانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
واضح رہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی بڑے معاہدے کی راہ ہموار ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے سامنے آنے والی ان تمام تفصیلات کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔






