اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ہم ان پر حملہ کریں گے اور بہت سخت حملہ کریں گے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک رپورٹر نے ان کے پہلے بیان کی وضاحت پوچھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو قیمت چکانا ہوگی کیونکہ وہ معاہدے تک پہنچنے میں تاخیر کر رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ امریکا دوبارہ بمباری شروع کرے گا، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہاں، ہیلی کاپٹر والے واقعے کے بعد میرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔
ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
سخت دھمکیوں کے باوجود ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر زور دیا کہ وہ جوہری معاہدے پر دستخط کرے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں، یہ ایک اچھا معاہدہ ہے۔ مجوزہ معاہدہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا پابند بناتا ہے۔
US President Donald Trump on Iran:
— TRT World Now (@TRTWorldNow) June 10, 2026
- We’re going to be attacking them very hard
- They should sign the deal; we want a deal that’s meaningful and works
- They have agreed to not having a nuclear weapon pic.twitter.com/h7kCyB4b6W
انہوں نے کہا کہ ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو بامعنی ہو، ایسا معاہدہ جو واقعی کام کرے۔ امریکا اور ایران معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے، لیکن تہران وقت گزاری کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم معاہدے کے بہت قریب تھے، لیکن وہ ہمیں مسلسل ٹالتے جا رہے ہیں، ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں ایران کے فوجی اور صنعتی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ تہران نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر اقدام کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز اور خلیجی خطہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی حساس اہمیت رکھتے ہیں۔
دھیان رہے کہ تاحال ایران کی جانب سے ٹرمپ کے تازہ الزامات اور دھمکیوں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔






