تفصیلات کے مطابق تقریباً 40 کروڑ ڈالر مالیت کا یہ لگژری بوئنگ طیارہ قطر کی جانب سے امریکا کو بطور تحفہ فراہم کیا گیا ہے، جسے امریکی محکمہ دفاع کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ طیارے کے استعمال اور اس کی ملکیت کے حوالے سے وائٹ ہاؤس سے باضابطہ وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ جدید ترین ٹیکنالوجی، اعلیٰ درجے کے حفاظتی نظام اور غیر معمولی سہولیات سے لیس ہے، یہ ایک “انتہائی پیچیدہ مگر شاندار فضائی شاہکار” ہے جو صدارتی سفر کے لیے غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر بوئنگ کمپنی سے رابطے کے دوران اس نوعیت کے طیارے کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں، اور بعد ازاں قطر نے اسے امریکا کے لیے بطور تحفہ پیش کرنے کی پیشکش کی۔
طیارے کے بیرونی ڈیزائن میں سفید، سرخ اور نیوی بلیو رنگ استعمال کیے گئے ہیں، جو امریکی صدارتی فضائی بیڑے سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اندرونی حصے میں فلیٹ لیٹ نشستیں، جدید کمیونیکیشن سسٹم، سنہری لائٹنگ، خصوصی کیبن ڈیزائن اور صدارتی معیار کے مطابق سیکورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ لگژری جیٹ اس وقت امریکی دفاعی اداروں کے زیر انتظام ہے اور اسے عبوری طور پر صدارتی سفری ضروریات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جب تک کہ نئے بوئنگ 747-8 طیارے مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتے۔
دوسری جانب اس غیر معمولی تحفے نے امریکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین قانون اور اپوزیشن رہنما سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے اس نوعیت کا مہنگا طیارہ قبول کرنا شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ قومی سلامتی اور ریاستی پالیسی کے تناظر میں بھی جانچا جا رہا ہے، جبکہ بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس نوعیت کے تحائف مستقبل میں سفارتی توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایرانی جوہری صلاحیت کے خاتمے سے متعلق مذاکرات ’مثبت انداز‘ میں آگے بڑھ رہے ہیں، صدر ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں قطر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ ایک “اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری” کی مثال ہے اور امریکا کے لیے ایک عارضی مگر بہترین حل فراہم کرتا ہے، کیونکہ نئے صدارتی طیاروں کی تیاری میں مزید وقت درکار ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدارتی فضائی بیڑا بوئنگ 747-200 پر مشتمل تھا، جو 1990 سے استعمال میں تھا اور اب اسے مرحلہ وار سروس سے ہٹایا جا چکا ہے۔ اس کی جگہ بوئنگ 747-8 ماڈلز کو اپ گریڈ کر کے نئے صدارتی طیارے تیار کیے جا رہے ہیں، جنہیں VC-25B کا نام دیا گیا ہے۔






