واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایرانی وفد نے امریکی وفد کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
ایرانی وفد سے متعلق ذرائع نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ضرور ہوئے ہیں، تاہم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
BREAKING: Iran says its negotiating delegation will not return to the Switzerland talks until Trump personally apologizes for his threats today and Israel fully withdraws from southern Lebanon, with Iran's delegation plane already repositioned to Zurich ready to fly back to…
— The Hormuz Letter (@HormuzLetter) June 21, 2026
ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل بحال کرنے اور سفارتی وفود کی واپسی کے لیے بیک چینل رابطے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دوسرا دور شروع نہ ہو سکا، جس کے باعث بات چیت میں تعطل پیدا ہو گیا۔
ایرانی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مزید مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ کا کہنا ہے کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دیگر معاملات پر مزید بات چیت نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تقریباً 80 منٹ بعد وقفہ کر دیا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وقفے کے دوران دونوں فریق اپنے اپنے وفود کی سطح پر مشاورت کر رہے ہیں، جب کہ ایرانی وفد اس وقت قطری وفد کے ساتھ بھی بات چیت میں مصروف ہے۔
امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیموں نے پاکستان اور قطر کے ثالثوں کی موجودگی میں بند کمرے میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی آمیز سوشل میڈیا پوسٹ پر باضابطہ احتجاج بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی وفد اپنے آئندہ لائحہ عمل اور مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے آغاز کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو فوری طور پر کارروائیاں روکنے کا حکم دے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکا ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا، جو گزشتہ ہفتے کیے گئے حملے سے بھی زیادہ شدید ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم 19 جون کو اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حملے کیے تھے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن شٹاخ میں مذاکرات کے آغاز سے قبل منعقدہ تقریب سے وزیراعظم شہباز شریف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور قطر کے وزیراعظم نے خطاب کیا، جب کہ پاکستانی وفد میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مدبرانہ اور متحرک قیادت کی بدولت یہ مذاکرات ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی بصیرت افروز قیادت کے باعث آج یہ اہم اجلاس منعقد ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری گفتگو انتہائی مفید ثابت ہوگی اور مستقبل میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے اختتام پر ایک ایسا جامع معاہدہ سامنے آئے گا جو دنیا بھر میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنے گا۔
شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور قطر کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے غیر معمولی صبر، استقامت اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں آج کا یہ اہم موقع ممکن ہو سکا۔
اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے خطاب میں پاکستان اور انڈیا کا ذکر دلچسپ انداز میں کرتے ہوئے حاضرین کو محظوظ کیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اکثر مجھ سے مذاق کرتے ہیں کہ میری زندگی میں ایک اہم انڈین شخصیت میری اہلیہ ہیں اور ایک اہم پاکستانی شخصیت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ میرے خیال میں گزشتہ چند دنوں میں میری سب سے زیادہ گفتگو اپنی اہلیہ سے نہیں بلکہ فیلڈ مارشل سے ہوئی ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر سفارت کاری نہ ہوتی تو آج یہ مذاکرات ممکن نہ ہوتے۔ ان کے بقول فیلڈ مارشل عسکری سفارت کاری میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں اور ان کی کوششوں نے اس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح پیغام دیا ہے کہ امریکا ایران کی جانب امن کا ہاتھ بڑھانا چاہتا ہے اور اگر ایران خطے کے امن و استحکام میں مثبت کردار ادا کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب قطر کے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ قطر اس وقت تک ثالثی کا کردار جاری رکھے گا جب تک امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع اور حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن اور سلامتی کے لیے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔
قطری وزیراعظم نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی جشن منانے کا وقت نہیں آیا، تاہم ایک مثبت آغاز ضرور ہو چکا ہے۔
انہوں نے مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔






