سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے سوال اٹھایا کہ آخر معصوم بچوں کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ غزہ، مغربی کنارے، بیروت، مناب، لامرد، تہران اور دنیا کے دیگر مقامات پر جہاں بھی امریکی اور اسرائیلی بمباری یا میزائل حملوں میں بچے جان سے گئے، حقیقت ایک ہی ہے۔

ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فوجی ہدف، سیاسی مفاد یا سکیورٹی جواز بچوں کے قتل کو درست قرار نہیں دے سکتا۔

انہوں کہا کہ بچے نہ جنگ کا فریق ہوتے ہیں اور نہ ہی جنگ کا ہتھیار، بلکہ وہ انسانیت کے زندہ ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہر وہ بچہ جو قتل یا معذور کیا جاتا ہے، درحقیقت مشترکہ انسانی اقدار اور انسانیت کے ایک حصے کی تدفین کے مترادف ہے۔