یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جب کہ دوسری جانب اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں اور قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
فریم ورک معاہدہ کیا ہے؟
یہ ایک سہ فریقی معاہدہ ہے جس کے فریق امریکا، اسرائیل اور لبنان ہیں۔ امریکا نے نہ صرف مذاکرات کی میزبانی کی بلکہ خود بھی اس معاہدے کا ضامن بنا ہے۔
معاہدے کا بنیادی مقصد جنوبی لبنان میں مستقل سکیورٹی انتظام قائم کرنا، لبنانی ریاست کی عملداری بحال کرنا، حزب اللہ کی عسکری موجودگی ختم کرنا اور بالآخر اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا ممکن بنانا ہے۔
اس معاہدے میں اسرائیل کو فوری طور پر جنوبی لبنان سے نکلنے کا پابند نہیں بنایا گیا، جس پر پہلے ہی شدید تنقید شروع ہو چکی ہے۔
معاہدے کی اہم شقیں
فریم ورک کے مطابق لبنانی فوج پورے جنوبی لبنان میں مرحلہ وار اپنی عملداری قائم کرے گی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں، خصوصاً حزب اللہ، کو غیر مسلح کیا جائے گا۔
اسی مقصد کے لیے دو ابتدائی پائلٹ زونز قائم کیے جائیں گے جہاں پہلے حزب اللہ کے ہتھیار ختم کیے جائیں گے، اس کے بعد لبنانی فوج مکمل کنٹرول سنبھالے گی۔
ان علاقوں میں کامیاب عمل درآمد کی بین الاقوامی تصدیق کے بعد ہی اسرائیلی فوج مرحلہ وار ان علاقوں سے واپس جانا شروع کرے گی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو بھی شروع ہوگی۔
معاہدے کے تحت ایک تھرائی لیٹرل ملٹری کوآرڈینیشن گروپ بھی قائم کیا جائے گا، جس میں امریکا، لبنان اور اسرائیل سکیورٹی معاملات پر براہ راست رابطے میں رہیں گے۔
اسرائیل فوری انخلا کیوں نہیں کرے گا؟
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ جب تک حزب اللہ مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوتی اور اسرائیل کو اپنی سلامتی کا مکمل یقین نہیں ہوجاتا، اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں جائے گی۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اسرائیل شاید حزب اللہ کی غیر مسلحی کے بعد بھی جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ اسی مؤقف نے لبنان میں اس معاہدے پر نئے تنازع کو جنم دیا ہے۔
لبنان کا مؤقف کیا ہے؟
لبنان کے صدر جوزف عون نے اس معاہدے کو ملک کی خودمختاری بحال کرنے کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نواف سلام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے انخلا، بے گھر شہریوں کی واپسی اور ریاست کی مکمل عملداری بحال کرنا ہے۔
لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ جنگ اور امن کا فیصلہ صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے اور یہی اس معاہدے کی بنیادی روح ہے۔
حزب اللہ نے معاہدہ کیوں مسترد کردیا؟
اگرچہ حزب اللہ مذاکرات میں شریک نہیں تھی، لیکن جنوبی لبنان کی زمینی حقیقتوں کے باعث اس کی حیثیت انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل پر کسی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور جب تک اسرائیلی فوج مکمل اور غیر مشروط انخلا نہیں کرتی، مزاحمتی قوتیں اپنے ہتھیار نہیں رکھیں گی۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنانی فوج واشنگٹن کے اس معاہدے کے تحت طاقت کے ذریعے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے ملک خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
اسی دوران حزب اللہ کے حامی بیروت میں موٹرسائیکل ریلیاں نکال کر اس معاہدے کے خلاف احتجاج بھی کر چکے ہیں۔
معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے کیوں جاری ہیں؟
معاہدے پر دستخط ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے مے فدون اور نباتیہ الفوقہ پر حملے کیے جن میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے بعض علاقوں میں شہریوں کو انخلا کے پمفلٹ بھی گرائے، جب کہ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں بھی جاری رہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ معاہدے کے باوجود زمینی حقائق ابھی مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئے۔
⭕️ Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu on the Lebanon Agreement:
— Drop Site (@DropSiteNews) June 26, 2026
🔹“The most important point is that Israel will remain in the security zone in southern Lebanon. This is a major achievement, and we will maintain our presence there as long as Hezbollah is not disarmed and… pic.twitter.com/A6ZccX0v8b
امریکا کا کردار
امریکا اس پورے عمل میں ضامن اور ثالث دونوں کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد لبنان کی خودمختاری بحال کرنا، حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں مسلسل جنگ کے سلسلے کو روکنے کی ایک واضح راہ فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار تمام فریقوں کی عملی پابندی پر ہوگا۔
کیا یہ واقعی امن کی جانب پہلا قدم ہے؟
اس معاہدے نے پہلی مرتبہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک باقاعدہ عملی فریم ورک ضرور فراہم کیا ہے، لیکن اس کے سامنے کئی بڑے چیلنج موجود ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اسرائیل اپنے انخلا کو حزب اللہ کی مکمل غیر مسلحی سے مشروط کر رہا ہے، جب کہ حزب اللہ اسرائیلی انخلا سے پہلے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں۔ دوسری جانب جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے ابھی بھی جاری ہیں، جس سے اعتماد سازی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
آنے والے ہفتوں میں فریم ورک کے تحت پائلٹ زونز میں لبنانی فوج کی تعیناتی، حزب اللہ کے اسلحے سے متعلق پیش رفت، اسرائیلی فوج کے ممکنہ انخلا اور تعمیر نو کے منصوبوں پر عمل درآمد کا آغاز متوقع ہے۔
اس کے برعکس اگر زمینی سطح پر حملے جاری رہے یا کسی بھی فریق نے معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کیا تو یہ نیا فریم ورک بھی ماضی کے کئی معاہدوں کی طرح صرف ایک سفارتی دستاویز بن کر رہ سکتا ہے۔
فی الحال یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی امید ضرور پیدا کرتا ہے، مگر مستقل امن کے لیے صرف دستخط کافی نہیں بلکہ اعتماد، سیاسی عزم اور تمام فریقوں کی عملی وابستگی ناگزیر ہوگی۔





