عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 58 سالہ ماریا کورینا ماچاڈو کا کہنا تھا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانا چاہتی ہیں۔ اگر آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے گئے تو ان کی تحریک 90 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرے گی۔ یہ عبوری مرحلہ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ ملک میں جمہوریت بحال ہو سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کے فوری انعقاد کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے وینزویلا کے مسائل حل کرنا ضروری ہیں۔ موجودہ حالات میں عوام ووٹ ڈالنے کے قابل نہیں، اس لیے اصلاحات کے بغیر انتخابات ممکن نہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس وقت عبوری صدر ڈیلسے روڈریگز اور مادورو حکومت کے بعض اعلیٰ حکام کے ساتھ کام کرنے کی خواہاں ہے، جس پر اپوزیشن نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ سوشلسٹ پارٹی کے حامی تاحال وینزویلا کے اہم اداروں پر قابض ہیں، جب کہ ماچاڈو کے خلاف فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
🇻🇪 Venezuela s opposition leader Maria Corina Machado vows to return home soon, praises President Trump for toppling Nicolas Maduro and declares her movement ready to win a free election. pic.twitter.com/5PbX8OkF7G
— Alex Salvi (@alexsalvinews) January 6, 2026
ماچاڈو نے ڈیلسے روڈریگز کو مادورو حکومت کے اہم ستونوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے ان پر بدعنوانی، تشدد اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے۔ روڈریگز روس، چین اور ایران جیسے ممالک سے قریبی روابط رکھتی ہیں۔
وینزویلا میں مادورو کی گرفتاری کے بعد صورتحال کشیدہ ہے۔ حکام نے مادورو کی گرفتاری میں تعاون کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے، جب کہ دارالحکومت کراکس میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ متعدد صحافیوں کو عارضی طور پر حراست میں بھی لیا گیا۔
ادھر نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں منشیات اسمگلنگ کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو وینزویلا کا جائز صدر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر عائد الزامات دراصل وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضے کی سازش ہیں۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے، تاہم بدانتظامی، پابندیوں اور سرمایہ کاری کی کمی کے باعث تیل کی پیداوار شدید متاثر ہو چکی ہے۔ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کے بانڈز میں تیزی دیکھی گئی ہے، جسے سرمایہ کار مستقبل میں تبدیلی کی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
امریکی اقدام کو لاطینی امریکا میں دہائیوں بعد سب سے بڑی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر روس، چین اور وینزویلا کے اتحادی ممالک نے شدید مذمت کی ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیا ہے۔






