عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نےکہا کہ ایران مذاکرات کے لیے کھلا ہے، لیکن یہ مذاکرات دھمکیوں اور کسی قسم کی ڈکٹیشن کے بغیر ہونے چاہئیں،ایران واشنگٹن کی طرف سے منصفانہ اور بروقت مذاکرات کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے امکان پر شک رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر امریکا فوجی آپشن پر غور کرے یا ماضی کی طرح کوئی جارحانہ قدم اٹھانے کی کوشش کرے تو ہم ہر ممکن تیاری کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔"
دوسری جانب، امریکا نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا کی ایران سے تجارت روکنے کی پالیسی غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے، چین
واضح رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ روز بھی اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے جن میں فوجی کارروائی کے امکانات بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی اس پالیسی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ایران نے اپنے دفاع اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے خود کو مکمل طور پر تیار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عرب اور عالمی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے یہ مؤقف واضح پیغام ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری اور مضبوط جواب دیا جائے گا، اور وہ مذاکرات کو دباؤ یا پابندیوں کے بغیر ترجیح دیتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی، خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ تصور کی جا رہی ہے، اور ماہرین دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازعہ کم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔






