عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج کے دوران طالبان سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔

رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

مقامی طبی ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ہلاکتوں کی تصدیق کی، تاہم اموات کی وجوہات کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ احتجاج ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ مقامی حکام نے ایسی خواتین کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں جن پر حجاب درست طریقے سے نہ پہننے کا الزام تھا۔

عینی شاہدین اور مظاہرین کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے احتجاج منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں، کوڑوں اور گولیوں کا استعمال کیا۔ بعض ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں، جب کہ مظاہرین کو بھاگتے اور چیختے ہوئے دیکھا گیا۔

ایک مظاہرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم پر لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی، جب کہ ایک فوٹوگرافر کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب ہرات پولیس نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ افراد نے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے اپنی ذمہ داری ادا کی۔

احتجاج کے دوران بعض شرکاء نے تعلیم، کام، آزادی کے نعرے بھی لگائے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی سرگرمیوں پر متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جب کہ مئی 2022 سے خواتین کے لیے حجاب لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد ہرات میں خوف اور بے چینی کی فضا پائی جاتی ہے، تاہم خواتین کی مبینہ گرفتاریوں اور بعض دیگر دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔