عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج کے دوران طالبان سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
مقامی طبی ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ہلاکتوں کی تصدیق کی، تاہم اموات کی وجوہات کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ احتجاج ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ مقامی حکام نے ایسی خواتین کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں جن پر حجاب درست طریقے سے نہ پہننے کا الزام تھا۔
عینی شاہدین اور مظاہرین کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے احتجاج منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں، کوڑوں اور گولیوں کا استعمال کیا۔ بعض ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں، جب کہ مظاہرین کو بھاگتے اور چیختے ہوئے دیکھا گیا۔
Grafic warning ⚠️
— Ramesh Tiwari (@rameshofficial0) June 11, 2026
🚨Heartless Afghanistan: Innocent Voices Silenced in Herat
Heart-wrenching scene from Herat, Afghanistan - peaceful protesters, including brave women and girls, were brutally attacked by Taliban security forces and Morality Police.
Citizens took to the… pic.twitter.com/hrq46BCqMJ
ایک مظاہرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم پر لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی، جب کہ ایک فوٹوگرافر کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب ہرات پولیس نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ افراد نے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے اپنی ذمہ داری ادا کی۔
احتجاج کے دوران بعض شرکاء نے تعلیم، کام، آزادی کے نعرے بھی لگائے۔
Indians and Youthias brothers, Afghan Taliban terrorists openly firing on a woman protester.
— Zardan Sangzi (@ZardanSi) June 9, 2026
"A moment captured Taliban shooting at an innocent female protester."
US and UN must stop sending weekly aid to Taliban as it is being misused instead of reaching Afghan people. pic.twitter.com/udwCOqKXS0
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی سرگرمیوں پر متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جب کہ مئی 2022 سے خواتین کے لیے حجاب لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد ہرات میں خوف اور بے چینی کی فضا پائی جاتی ہے، تاہم خواتین کی مبینہ گرفتاریوں اور بعض دیگر دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔






