ابراہیم عزیزی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے خودمختار پانیوں کا حصہ ہے اور اس کے مستقبل سے متعلق فیصلے کسی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے تحت نہیں کیے جائیں گے، ایران اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے اپنے بیان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کسی کے ذاتی مفاد یا دباؤ کا مرکز نہیں، بلکہ یہ ایران کی خودمختاری سے جڑا معاملہ ہے، اس آبی راستے سے متعلق حتمی فیصلے ایرانی عوام اور مسلح افواج ہی کریں گے۔ؔ

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے باوجود خطے میں کشیدگی کے خدشات برقرار ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے عالمی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ایران نے ممکنہ اقدامات کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف فریقین کی جانب سے متضاد بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔

قبل ازیں ایران سے منسوب بعض بیانات میں آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں سے متعلق سخت اقدامات کا ذکر کیا گیا تھا، جس میں جہازوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی۔ تاہم صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں بدستور خطے کی سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے بھی آبنائے ہرمز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس اہم بحری راستے کی آزادی اور محفوظ آمد و رفت عالمی مفاد کا معاملہ ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ایران کو خبردار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں ایران سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اتحادی گروہوں سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے،  عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے اہم سمندری راستے کھلے رہنے چاہئیں۔

مزید پڑھیں: سوئٹزر لینڈ میں مذاکراتی وفد کا کام مکمل ہوگیا،کنیکی سطح پر مشاورت کا عمل جاری رہے گا: ایران

ادھر جرمن وزیر دفاع کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ردعمل بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے موجودہ کشیدگی کے حوالے سے امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ  آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی ہوئی بیان بازی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں امن مذاکرات اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اس آبی گزرگاہ کی صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی معیشت پر بھی براہ راست اثر انداز ہوسکتی ہے۔

عالمی برادری کی نظریں اب ایران، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک کے آئندہ اقدامات پر ہیں، جبکہ سفارتی حلقے زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکراتی عمل کو ترجیح دی جائے۔