اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل  پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے نہ کوئی ٹول وصول کیا جا رہا ہے، نہ انشورنس فیس اور نہ ہی کسی اور نوعیت کے اضافی چارجز لیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ امریکا نے ایران کو کسی قسم کی مالی امداد فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کو کوئی رقم نہیں دی اور نہ ہی ایرانی فنڈز براہ راست تہران کے حوالے کیے گئے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بعض ایرانی فنڈز کو اپنی نگرانی میں استعمال کرتے ہوئے امریکی کسانوں اور مویشی پال حضرات سے مکئی، گندم، سویا بین اور دیگر زرعی اجناس خریدے گا، جو بعد ازاں ایران کو فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ ایران کو خوراک کی شدید ضرورت ہے اور ہم یہ خوراک خصوصی طور پر امریکا سے خرید کر فراہم کریں گے۔

دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔


ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے سربراہ رافیل گروزی کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی فی الحال جوہری تنصیبات یا متاثرہ مقامات تک رسائی دینے کا کوئی پروگرام موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران حتمی امن معاہدے سے قبل اپنے جوہری مراکز کے معائنے کی اجازت نہیں دے گا۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے زیر نگرانی نئے انتظام کے تحت آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کئی تجارتی اور کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جب کہ درجنوں دیگر جہاز روانگی کے منتظر ہیں۔

مزید پڑھیں: میں نے ایران کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا، وہ گرنے ہی والا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

بین الاقوامی میری ٹائم حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے فریم ورک کے بعد ہزاروں پھنسے ہوئے ملاحوں اور سیکڑوں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے خصوصی منصوبہ نافذ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو چکا ہے۔

اس کے برعکس آبنائے ہرمز، ایران کے منجمد اثاثوں، تیل کی فروخت، جوہری پروگرام اور لبنان میں جاری کشیدگی جیسے معاملات اب بھی مذاکرات کے مرکزی نکات ہیں۔