غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی کے دورے پر موجود ہیں، جہاں انہوں نے خلیجی ممالک کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور آبنائے ہرمز کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے معاشی اور تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی قوانین کے تحت یہ ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے، اس لیے کوئی بھی ریاست اس پر اپنی مرضی سے مالی پابندیاں یا فیس نافذ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلیجی خطے کے تمام اہم ممالک اس معاملے پر امریکا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں اور سمندری راستوں کی آزادی کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں، عالمی تجارت کے تسلسل اور توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے اہم بحری راستے ہر قسم کی رکاوٹ سے محفوظ رہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے کردار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر ایران بین الاقوامی اصولوں اور ریاستی ذمہ داریوں کے مطابق طرز عمل اختیار کرے تو اسے اقتصادی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے میدان میں نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے، عراق سے مختلف اہداف پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات پورے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں علاقائی سلامتی، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور بحری راستوں کے تحفظ جیسے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل گزرا، قیمتیں نیچے آ رہی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب عمان اور ایران کی جانب سے حالیہ مشترکہ اعلامیے میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور اور وہاں فراہم کی جانے والی مختلف خدمات کے بدلے ممکنہ فیسوں کے نفاذ کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا ساحلی ممالک اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظامی معاملات میں اضافی مالی اقدامات کر سکتے ہیں یا نہیں۔
یاد ر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے مصروف اور حساس سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی قسم کی پالیسی تبدیلی یا کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری سفارتی بیانات اور علاقائی مشاورت آئندہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاسی و معاشی صورتحال پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں بھی اس حساس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔






