ایرانی میڈیا کے مطابق مغربی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی ان خبروں کے برعکس کہ تہران آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی بڑی رعایت دینے پر آمادہ ہے، مجوزہ مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) میں ایسا کوئی نکتہ شامل نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویز میں صرف جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ مجوزہ مفاہمت کا بنیادی مقصد تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ہے، نہ کہ صرف عارضی جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ مسودے پر دستخط کی صورت میں واشنگٹن اسرائیل کو لبنان میں جاری جنگ ختم کرنے کا پابند بنانے کی یقین دہانی کرائے گا۔
BreakingNews
— Iran TV (@Iran_TVv) June 11, 2026
Iranian Government:
“The Strait of Hormuz belongs to Iran. We will never lose it.”
The US lost, Iran won... pic.twitter.com/JQujnrdgrx
ایرانی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تہران کو بیرون ملک منجمد اثاثوں کی واپسی کے لیے واضح ضمانتیں حاصل ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اثاثوں کی رہائی کے لیے ایک واضح اور قابل قبول طریقہ کار طے کیا گیا ہے، جس پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہی عملدرآمد شروع ہو سکتا ہے اور مذاکرات کے دوران بھی یہ عمل جاری رہے گا۔
ایرانی میڈیا نے مزید کہا کہ موجودہ متن میں جنگ بندی میں توسیع کی اصطلاح شامل نہیں، بلکہ اس کا محور تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں کرسکا، جب کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔





