دنیا کے نقشے پر ایک تنگ سی لکیر مگر اثرات ایسے کہ پوری عالمی معیشت لرز اٹھے۔ یہ ہے آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے درمیان واقع وہ گزرگاہ جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اس کا سب سے تنگ حصہ صرف 21 میل چوڑا ہے، مگر بڑے تیل بردار جہازوں کے لیے قابلِ استعمال راستہ اس سے بھی کہیں کم ہے۔ اسی لیے اسے دنیا کا سب سے اہم چوک پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ اگر یہاں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ اور امریکا تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت اور توانائی کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس کی معیشت کارخانوں، بندرگاہوں اور برآمدات پر کھڑی ہے اور یہ سب توانائی کے بغیر ممکن نہیں۔

چین اپنی توانائی کی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے اور اس درآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، عراق، کویت اور ایران سے آتا ہے۔ یہ تمام بحری راستے زیادہ تر آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتے ہیں۔

یعنی اگر یہ گزرگاہ بند ہو جائے یا یہاں کشیدگی بڑھ جائے، تو چین کی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو تو صنعت سست پڑ سکتی ہے، پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے اور عالمی منڈی میں چینی مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔

اگر آبنائے ہرمز میں جنگی صورتحال پیدا ہو جائے جیسے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھے یا خلیج میں کسی بحری جہاز پر حملہ ہو تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ چین جیسی درآمدی معیشت کے لیے یہ ایک بڑا اقتصادی دھچکا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بیجنگ خاموش ضرور ہے، مگر بے خبر نہیں۔

چین اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کئی حکمت عملیوں پر کام کر رہا ہے۔ وہ روس اور وسطی ایشیا سے پائپ لائنوں کے ذریعے تیل اور گیس حاصل کر رہا ہے، تاکہ بحری راستوں پر انحصار کم ہو۔

چین نے اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر بھی بڑھا لیے ہیں، تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں چند ماہ تک اندرونی طلب پوری کی جا سکے۔ اس کے علاوہ وہ قابلِ تجدید توانائی جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

ایک اور اہم پہلو سفارت کاری ہے۔ چین مشرقِ وسطیٰ میں متوازن تعلقات رکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہ ایران کے ساتھ بھی روابط رکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ بھی۔ اس کا مقصد واضح ہے: کشیدگی کم رہے اور توانائی کے راستے محفوظ رہیں۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے بند ہو جائے، تو یہ صرف چین نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک امتحان ہوگا۔ سپلائی چین متاثر ہوں گی، اسٹاک مارکیٹس میں ہلچل ہوگی اور عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

آج کے دور میں آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں رہی، یہ عالمی استحکام کا پیمانہ بن چکی ہے۔ چین کی نظریں خلیج پر جمی ہوئی ہیں۔ ہر کشیدگی، ہر بیان، ہر فوجی نقل و حرکت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پیغام واضح ہے کہ توانائی کی سلامتی چین کے لیے ناقابلِ سمجھوتہ معاملہ ہے اور جب تک دنیا تیل پر انحصار کرتی رہے گی، آبنائے ہرمز عالمی سیاست کا مرکز بنی رہے گی۔