عالمی خبررساں ادارے روئٹرز اور اپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد ایران میں ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہے۔

سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ امریکیوں کو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے استحکام بلکہ اپنی ذاتی مالی حالت پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی شدید خوف ہے۔

سروے میں شامل ایک ہزار 21 بالغ افراد کی رائے کے مطابق تقریباً 56 فیصدامریکیوں کا ماننا ہے کہ ایران میں فوجی کارروائی ان کی ذاتی مالی حالت پر منفی اثر ڈالے گی، جب کہ صرف سات فیصد اس کے بارے میں مثبت امید رکھتے ہیں۔

سروے نتائج کے مطابق امریکی عوام میں اپنے فوجیوں کی زندگیوں کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سروے کے مطابق 86 فیصدافراد نے امریکی فوجی اہلکاروں کی زندگیوں کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے 52 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ امریکی مداخلت سے خطے کا استحکام مزید خراب ہوگا، جب کہ صرف 21 فیصد بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔

ایران میں رہنے والے لوگوں کے معیارِ زندگی کے حوالے سے بھی 49 فیصد امریکیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہاں حالات مزید ابتر ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں ایران کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے۔تاہم اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکی عوام اس جنگی جنون کے حق میں نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چار میں سے تین سے زائد امریکی ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ امریکی حکام اسے ایک آپشن کے طور پر زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں۔زیادہ تر امریکیوں کا خیال ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی بے یقینی کی وجہ سے نہ صرف ان کی جیب پر بوجھ پڑے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں انسانی جانوں اور امن و امان کا بھی ضیاع ہوگا۔