خبررساں ادارے کے مطابق آئرش گول کیپر گیون بازونو نے ساتھی کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کو آگاہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف میچ میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کے فیصلے کے بعد آئرش ٹیم کا تربیتی سیشن اور پریس کانفرنس بھی تاخیر کا شکار ہوئی اور کھلاڑیوں نے کئی گھنٹے تک اس معاملے پر مشاورت کی۔

بازونو نے بعد میں اپنے بیان میں کہا کہ ان کا فیصلہ آسان نہیں تھا اور انہوں نے ذاتی اصولوں کی بنیاد پر میچ سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق معصوم لوگوں کا قتل غلط ہے اور وہ کسی بڑی انسانی قدر کے لیے اپنا مؤقف سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب آئرش مڈفیلڈر جیسن نائٹ بھی اس سے قبل اسرائیل کے خلاف میچ کے انعقاد پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ نائٹ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں یہ میچ نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم اب چونکہ میچ شیڈول ہے اس لیے کھلاڑی اس حوالے سے مزید مشاورت کریں گے۔

اس معاملے پر آئرلینڈ میں کھیلوں سے وابستہ 160 سے زائد شخصیات بھی آواز اٹھا چکی ہیں۔ ’آئرش اسپورٹ فار فلسطین‘ کی جانب سے جاری کھلے خط میں آئرش ٹیم سے غزہ کی جنگ کے احتجاج کے طور پر اسرائیل کے خلاف میچوں کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آئرش ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیمیر ہالگریمسن کے بیانات نے بھی تنازع کو مزید نمایاں کردیا۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف میچ کے حوالے سے کہا تھا کہ آئرلینڈ کی ٹیم نسل کشی کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے خلاف کھیل رہی ہے۔

ہالگریمسن کے بیان پر اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں بیوقوفی، جہالت اور منافقت کا مرتکب قرار دیا۔ اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن کا ردعمل آئرش کوچ کے بیان پر سامنے آیا، جب کہ ہالگریمسن کے موقف کو آئرلینڈ میں بعض سیاسی شخصیات اور حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔

آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے نومبر 2025 میں یوفا کے سامنے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے مطالبے کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم، ایسوسی ایشن نے یوفا کے تحت ہونے والے نیشنز لیگ کے میچز سے دستبرداری کی حمایت نہیں کی۔

آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے بعد ازاں یوفا سے درخواست کی تھی کہ مستقبل کے یورپی مقابلوں کے ڈرا میں آئرلینڈ اور اسرائیل کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے، تاہم یوفا نے یہ درخواست مسترد کردی۔ یوفا کے مطابق آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تنازع کی تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں دیگر مخصوص سیاسی تنازعات رکھنے والے ممالک کی طرح الگ رکھنے کی بنیاد موجود نہیں تھی۔

رپورٹس کے مطابق میچ سے مکمل دستبرداری کی صورت میں آئرلینڈ کو کھیلوں کے ضابطوں کے تحت مختلف نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، اسی لیے کھلاڑیوں اور ٹیم انتظامیہ کے درمیان طویل مشاورت ہوئی۔ بالآخر آئرش کھلاڑیوں نے ووٹنگ کے بعد میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا، جب کہ گیون بازونو نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے اسکواڈ سے دستبرداری اختیار کی۔

واضح رہے کہ آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان دوسرا نیشنز لیگ میچ 4 اکتوبر کو سربیا کے شہر باچکا ٹوپولا میں کھیلا جائے گا۔ آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے سکیورٹی اور آپریشنل مشکلات کے باعث یہ میچ آئرلینڈ سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میچ بند دروازوں کے پیچھے کھیلا جائے گا۔