ایران ہفتے کے روز ورلڈ کپ سے اس وقت باہر ہو گیا جب آسٹریا نے الجزائر کے خلاف آخری لمحات میں برابر کا گول کرکے ایران کو بہترین تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کی فہرست سے باہر کر دیا۔ اس سے ایک روز قبل مصر کے خلاف ایران کا 1-1 سے ڈرا بھی ڈرامائی ثابت ہوا، جہاں آخری لمحات میں ایران کا ممکنہ فاتحانہ گول وی اے آر چیک کے بعد آف سائیڈ قرار دے دیا گیا۔
ورلڈ کپ کے دوران ایران کو صرف میدان میں ہی نہیں بلکہ میدان سے باہر بھی غیر معمولی مشکلات کا سامنا رہا۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ صورتحال کے باعث ایرانی ٹیم نے ویزا مسائل کے خدشے کے پیش نظر اپنا بیس کیمپ امریکا کی ریاست ایریزونا سے میکسیکو کے سرحدی شہر تیجوانا منتقل کر دیا تھا۔ ہر میچ کے بعد ٹیم کو چند گھنٹوں میں دوبارہ میکسیکو واپس جانا پڑتا تھا، حالانکہ ایران نے اپنے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
مشکل حالات کے باوجود تیجوانا کے شہریوں نے ایرانی ٹیم کا بھرپور خیرمقدم کیا۔ شائقین ہر میچ سے پہلے اور بعد میں ٹیم کے ہوٹل کے باہر جمع ہوتے، آٹوگراف لیتے، تصاویر بنواتے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ تین ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے عوام کے درمیان پیدا ہونے والا یہ رشتہ سوشل میڈیا پر بھی نمایاں رہا۔
میکسیکو میں ایران کے سفارت خانے نے ایک بیان میں تیجوانا کے عوام، میڈیا اور مقامی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مہمان نوازی نے ایرانی وفد کو گھر جیسا احساس دلایا۔ بیان میں کہا گیا کہ تیجوانا میں بننے والی یادیں اور دوستی ہمیشہ ایرانی قومی ٹیم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
مزید پڑھیں: آئرلینڈ نے تاریخ رقم کر دی، انڈیا کو وائٹ واش کر کے پہلی بار ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے نام کر لی
ایرانی سفیر ابوالفضل پسندیدہ اور ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ہدایت مومنی نے بھی میکسیکو کی میزبانی کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا، جبکہ ایرانی حکام نے مستقبل میں فیفا سے مطالبہ کیا کہ میزبان ممالک کے انتخاب میں ایسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ تمام ٹیموں کو مساوی اور منصفانہ سہولتیں میسر آ سکیں۔
ایران کی روانگی کے موقع پر منظر انتہائی جذباتی تھا۔ متعدد میکسیکن شائقین ہوٹل کے باہر جمع ہوئے اور "ایران، بھائی، اب تم بھی میکسیکن ہو" کے نعروں اور بینرز کے ذریعے ٹیم کو الوداع کہا۔ یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ مختلف قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ بھی ہے۔







