ڈیلاس میں کھیلے گئے مقابلے کے بعد ناروے کے کھلاڑیوں اور شائقین نے روایتی "وائکنگ رو" جشن منایا، جس کی قیادت کپتان مارٹن اوڈیگارڈ نے کی۔ ہالینڈ بھی جشن کے دوران وائکنگ ہیلمٹ پہن کر شائقین کے ساتھ خوشیاں مناتے نظر آئے۔
اس کامیابی کے ساتھ ناروے فرانس کے ساتھ سپر 16 مرحلے سے آگے بڑھنے والی دوسری یورپی ٹیم ہے، جبکہ جرمنی اور نیدرلینڈز جیسے مضبوط حریف پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔ ناروے کا اگلا مقابلہ برازیل سے ہوگا، جسے ٹورنامنٹ کا ایک بڑا اور دلچسپ معرکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ہالینڈ نے اگرچہ پورے میچ میں محدود مواقع حاصل کیے، لیکن 86ویں منٹ میں ان کا بروقت گول فتح کا سبب بن گیا۔ اس کے ساتھ وہ ورلڈ کپ 2026 میں تین میچوں میں پانچ گول کر چکے ہیں، جبکہ اس وقت صرف لیونل میسی اور کائلان ایمباپے نے ان سے زیادہ گول اسکور کیے ہیں۔
25 سالہ ہالینڈ اب ناروے کے لیے 53 بین الاقوامی میچوں میں 60 گول کر چکے ہیں، جو غیر معمولی اوسط ہے۔ انہوں نے اپنے گزشتہ 13 مسابقتی بین الاقوامی میچوں میں مسلسل گول کرتے ہوئے مجموعی طور پر 25 بار گیند جال میں پہنچائی ہے۔
بین الاقوامی جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے انگلینڈ کے سابق کپتان وین رونی نے کہا کہ ہالینڈ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بڑے مقابلوں کے کھلاڑی ہیں۔ ان کے مطابق ہالینڈ پورے میچ میں زیادہ نمایاں نہ ہونے کے باوجود ایک لمحے میں نتیجہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب سابق انگلش انٹرنیشنل اسٹیف ہوٹن کا کہنا تھا کہ ناروے کے پاس وہ معیار موجود تھا جو ایسے سخت مقابلوں میں فرق پیدا کرتا ہے، اور ہالینڈ نے ایک بار پھر فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: امریکہ میں گرمی کی لہر، میچر کے دوران درجہ حرارت 48 ڈگری تک جانے کا امکان
ناروے کے کوچ اسٹیلے سولباکن نے ہالینڈ کو موجودہ دور کا بہترین گول اسکورر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ میں تین میچوں میں پانچ گول کسی بھی کھلاڑی کے لیے غیر معمولی کارنامہ ہے، خصوصاً ایک نسبتاً چھوٹے فٹبال ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے۔
ہالینڈ کی شاندار فارم کے بعد اب ان کا موازنہ پرتگال کے سپر اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کے بین الاقوامی گولوں کے ریکارڈ سے بھی کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھتے ہیں تو آئندہ برسوں میں عالمی فٹبال کے کئی تاریخی ریکارڈ خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔







