فتح کے بعد کینیڈا کے ہیڈ کوچ جیسی مارش نے اپنے کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے منصوبے پر قائم رہ کر جارحانہ انداز اپنایا اور اب وہ پورے ملک کے بچوں کے لیے ہیرو بن چکے ہیں۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے سوشل میڈیا پر ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا، "کیا کھیل ہے، کیا ٹیم ہے، کیا ملک ہے۔" اونٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ، قائد حزب اختلاف پیئر پوئیلیور اور وینکوور کے میئر کین سم نے بھی ٹیم کی تاریخی کامیابی کو سراہا۔

ملک بھر میں شائقین نے جشن منایا جبکہ سوشل میڈیا پر واچ پارٹیوں اور فین فیسٹیولز کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔ لاس اینجلس میں ہونے والے میچ کے دوران بھی کینیڈین شائقین کی بڑی تعداد اپنی ٹیم کی حمایت کے لیے موجود تھی۔

کینیڈا کے معروف کھلاڑیوں، جن میں اولمپک چیمپیئن تیراک سمر میکانٹوش، ٹینس اسٹار فیلکس اوگر-الیاسائم، رنر آندرے ڈی گراس اور خلاباز کرس ہیڈفیلڈ شامل ہیں، نے بھی قومی ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔

چیمپئنز لیگ کے دوران انجری کا شکار ہونے والے الفانسو ڈیوس نے بین الاقوامی فٹبال میں واپسی کرتے ہوئے بطور متبادل میدان میں آ کر ٹیم کی کارکردگی میں جان ڈال دی، جس پر ان کے کلب بائرن میونخ نے بھی انہیں مبارکباد دی۔

مزید پڑھیں: مہنگے ٹکٹ اور ٹرانسپورٹ: نیویارک کے میئر کی فیفا پر تنقید

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کینیڈا کو جیت پر مبارکباد دی، جبکہ سابق جرمن فٹبالر باسٹین شوائنسٹائیگر نے کہا کہ اگرچہ کینیڈا نے اگلے مرحلے میں جگہ بنا لی ہے، لیکن نیدرلینڈز یا مراکش جیسے مضبوط حریفوں کے خلاف اسے اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانا ہوگی۔