سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر الزام لگایا ہے کہ گزشتہ دو سال میں 10 کپتان بدلنا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ تقسیم کرو اور حکومت کرو پالیسی کے تحت دانستہ طور پر کیا گیا۔ اس طریقے سے بورڈ طاقت برقرار رکھنے کے لیے کھلاڑیوں کو گروپوں میں بانٹ رہا ہے۔
محمد رضوان کو ون ڈے کپتانی سے ہٹا کر شاہین شاہ آفریدی کو نیا کپتان بنانے کے فیصلے پر راشد لطیف کے ساتھ محمد عامر اور دیگر تجزیہ کاروں نے بھی شدید ردعمل دیا۔ رضوان کو اکتوبر 2024 میں وائٹ بال کپتان بنایا گیا تھا۔ ان کی قیادت میں ٹیم نے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز جیتیں مگر چیمپئنز ٹرافی کے ناک آؤٹ مرحلے تک نہیں پہنچ سکی اور ویسٹ انڈیز سے 2-1 کی شکست کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا۔
شاہین آفریدی اس سے قبل بھی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف 4-1 کی ہار کے بعد ان سے قیادت واپس لے لی گئی تھی۔ اب پاکستان کے تینوں فارمیٹس میں الگ کپتان ہیں۔ شاہین آفریدی ون ڈے، سلمان آغا ٹی ٹوئنٹی اور شان مسعود ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
مزید براں راشد لطیف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایک مستقل کپتان پیدا نہیں کر سکا۔ انہوں نے کپتانی کی مسلسل تبدیلیوں کی تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ مارچ 2023 سے اکتوبر 2025 تک مختلف چیئرمینوں کے ادوار میں دس بار قیادت بدلی گئی۔
محمد عامر نے بھی ٹیم مینجمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند سیریز کی بنیاد پر کپتان بدلنا ناانصافی ہے۔ شاہین کو نائب کپتان بنایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رضوان سمجھدار کپتان تھا اور اس نے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں جیت دلا کر ثابت کیا کہ وہ اس کردار کے اہل تھا۔
ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا کہ اگر کارکردگی ہی پیمانہ ہے تو شان مسعود نے 13 میں سے 9 ٹیسٹ میچ ہارے ہیں مگر وہ بدستور پرسکون ہیں۔ سلمان آغا نے بھی چھ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں صرف 50 رنز بنائے جن کی اوسط 10 اور اسٹرائیک ریٹ 79.36 رہا۔
واضع رہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں راشد لطیف نے دعویٰ کیا کہ محمد رضوان کو کپتانی سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ اس نے فلسطین کے حق میں کھل کر آواز اٹھائی تھی اور کوچ مائیک ہیسن کو یہ بات پسند نہیں آئی۔






