انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ناٹنگھم میں نیوزی لینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ بین اسٹوکس کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری میچ ہوگا۔ بین اسٹوکس نے کھیل کے آغاز سے قبل اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔
بین اسٹوکس نے ٹرینٹ برج میں تیسرے ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس کے دوران اس امکان کو مسترد نہیں کیا تھا کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ ہو سکتا ہے، تاہم اب انہوں نے باضابطہ طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی انگلینڈ کے لیے بین اسٹوکس کا 15 سالہ شاندار بین الاقوامی کیریئر اور چار سالہ ٹیسٹ کپتانی کا دور اختتام پذیر ہو جائے گا۔
بین اسٹوکس نے 2011 میں انگلینڈ کی جانب سے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا، جب کہ دسمبر 2013 میں ایڈیلیڈ میں ایشز سیریز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔ وہ اپریل 2022 سے انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق بین اسٹوکس نے انگلینڈ کے لیے 121 ٹیسٹ میچز میں 7,228 رنز بنائے اور 246 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 114 ایک روزہ بین الاقوامی میچز میں 3,463 رنز اسکور کیے اور 74 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ 43 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں 585 رنز بنانے کے ساتھ 26 وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔
An emotional walk back to the pavilion at tea, with the news of Ben Stokes impending international retirement casting a different light over the day pic.twitter.com/Jie4XqPdV0
— Cricinfo (@cricinfo) June 28, 2026
بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ لارڈز ٹیسٹ میں فتح کے بعد چیلسی کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والی جشن کی تقریب سے متعلق تحقیقات کے باعث دی اوول میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ریگولیٹر کی تحقیقات کے بعد انہیں تحریری وارننگ جاری کی گئی تھی، تاہم مزید کسی ضابطہ خلاف ورزی یا بدعنوانی کے الزامات سے بری قرار دے دیا گیا تھا۔
بین اسٹوکس کو انگلینڈ کی کرکٹ تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز اور کامیاب ترین کپتانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی ریٹائرمنٹ کو عالمی کرکٹ کے ایک اہم باب کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔







