میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیکاٹ کا فیصلہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر نظم السلام کے حالیہ بیان کے بعد کیا گیا۔ کھلاڑیوں نے ڈائریکٹر کے بیان پر احتجاج کے طور پر تمام فارمیٹس کے کرکٹ میچز بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا اور نظم السلام کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
بی پی ایل حکام کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی طرف سے پیش آنے والے غیرحاضری کے باعث آج کے میچ کو مؤخر کرنا پڑا اور دونوں ٹیموں کے کپتانوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ صورتحال کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔
کھلاڑیوں کی ہڑتال نے بی پی ایل کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، کیونکہ لیگ میں جاری دیگر میچز کے شیڈول متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل بھی کھلاڑیوں اور بورڈ کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آ چکی ہیں، اور موجودہ صورتحال نے دونوں جانب تعلقات مزید کشیدہ کر دیے ہیں۔
لیگ کے منتظمین نے کہا کہ کھلاڑیوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات جلد ہی شروع کیے جائیں گے تاکہ بی پی ایل کا باقی سیزن بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔
میچ کے بائیکاٹ کے بعد شائقین کرکٹ میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے، اور سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کی ہڑتال اور بورڈ کی پالیسی پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔






